سُرخیاں‘ متن اور شاعری

وطن نے بہت کچھ دیا‘ اب اسے لوٹانے کا وقت ہے : شہبازشریف خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ ”وطن نے بہت کچھ دیا۔ اب اسے لوٹانے کا وقت ہے‘‘ اگرچہ سب کچھ عدالت کے حکم سے ہی واپس لے لیا جائے گا کیونکہ اسے لوٹانے کا وقت واقعی آ گیا ہے جبکہ بھائی صاحب کو تو مجھ سے کہیں زیادہ لوٹانا ہو گا کیونکہ وطن نے اُنہیں دیا بھی مجھ سے بہت کچھ زیادہ تھا‘ تاہم اگرچہ وطن کی طرف سے مجھے دیا جانا بھی کچھ کم نہیں ہے‘ اسی لیے میں نے لوٹانے کی پیشکش کر دی ہے تاکہ عدالت کو زحمت ہی نہ اُٹھانا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ” پاکستانی ڈاکٹروں نے دنیا بھر سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا‘‘ اور‘ بالکل ہمارے نقش قدم پر چلے کیونکہ ہماری صلاحیتوں کا لوہا ساری دنیا مان چکی ہے کیونکہ پہلے پہلے تو ہماری طرف سے صرف لوہا ہی منوایا جا سکتا تھا جبکہ دیگر ملیں وغیرہ تو بعد میں آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ” ان ڈاکٹروں کی وطن کو بہت ضرورت ہے‘‘ جبکہ وطن کو ہماری بھی ضرورت بہت زیادہ ہے اور ہم اسی لیے اس کی زیادہ سے زیادہ خدمت پر تلے بیٹھے ہیں۔ آپ اگلے روز کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ نوازشریف جس راستے پر نکلے‘ آسان نہیں: مریم نواز سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ”نوازشریف جس راستے پر نکلے‘ آسان نہیں‘‘ اور اللہ نے چاہا تو بہت جلد انہیں عدالتی شہید ہونے کا رتبہ حاصل ہو جائے گا حالانکہ یہ رتبہ فوجی حضرات زیادہ خوبصورتی سے پیش کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”ووٹ کی حکمرانی کی جنگ نوازشریف نے شروع کی‘‘ اور یہ محض اتفاق ہے کہ ووٹ کی حکمرانی کا خیال انہیں اُس وقت آیا جب وہ وزارت عظمیٰ کی تین باریاں بھگتا کر نااہل قرار پا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”17 ستمبر کو شیر بولے گا‘‘ اگرچہ پہلے میں کہہ چکی ہوں کہ اس روز شیر دہاڑے گا لیکن شیر چونکہ بوڑھا اور معطل ہو چکا ہے اس لیے اس کے بولنے کو ہی کافی سمجھا جائے‘ حتیٰ کہ سرگوشیوں کی بھی نوبت آ سکتی ہے اور پھر محض اشاروں کی۔ انہوں نے کہا کہ ” ہُنرمند ہاتھ نوازشریف کا ساتھ دیں‘‘ کیونکہ نواز شریف کا ہُنر تو عدلیہ سمیت سب دیکھ چکے ہیں‘ اور حیران بھی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”کارکنوں کا جذبہ دیکھ کر بہت خوش ہو رہی ہوں‘‘ جو یہاں کا پانی پی پی کر بہت خوش ہوتے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ”مسلم لیگ نون ملک کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے‘‘ جسے اب کونوں سے نکل کر ملک کے اندر بھی پھیلنا چاہیے اور کونوں کھُدروں سے باہر نکل آنا چاہیے‘ اُنہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”نوازشریف نے قانون کی حکمرانی کے لیے فیصلہ تسلیم کیا‘‘ اور اب قانون کی حکمرانی کے لیے ہی اس فیصلے کی مذمت کی جا رہی ہے اور اگرچہ قانون اندھا ہوتا ہے لیکن آپ تو اندھے نہیں ہیں‘ تاہم گٹروں ملا پانی پی پی کر ہو بھی سکتے ہیں جبکہ عقل کے اندھے تو آپ ماشاء اللہ پہلے بھی ہیں جو نوازشریف کو تین بار وزیراعظم بنا چکے ہیں‘ اور اب ہاتھ مل رہے ہیں‘ ہور چُوپو!۔ آپ اگلے روز لاہور میں ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہی تھیں۔ 63-62 کی تلوار عمران خان کا گلا بھی کاٹ سکتی ہے : مولا بخش چانڈیو پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ ”62-63 کی تلوار عمران خان کا گلا بھی کاٹ سکتی ہے‘‘ اور چونکہ نوازشریف وغیرہ تو پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوں گے اس لیے ع گلیاں ہو جان سنجیاں‘ وچ مرزا یار پھرے والی کیفیت ہو جائے گی لیکن پارٹی پر نحوست اس قدر طاری ہے کہ اگر اس کے اُمیدوار کے مقابلے میں کوئی بھی نہ کھڑا ہو تو وہ تب بھی ہار جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”نوازشریف پارلیمنٹ پر اعتماد کرتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا‘‘ کیونکہ دھرنے کے دوران بھی انہیں پارلیمنٹ میں ہم نے ہی بچایا تھا اور اب بھی میثاق جمہوریت سے مجبور ہو کر اُن کو بچا لیتے۔ آپ اگلے روز کراچی میں کارکنوں سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ بددیانتی اور کرپشن کا نظام واپس نہیں آنے دیں گے : عمران خان تحریک انصاف پاکستان کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ”بددیانتی اور کرپشن کا نظام واپس نہیں آنے دیں گے‘‘ اور اگر غیر ملکی فنڈنگ کیس میں میرے خلاف فیصلہ آ جاتا ہے تو میرے جانشین یہ فریضہ ادا کریں گے جس کے لیے میں نے اپنی سیاسی وصیت تحریر کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ” رکنیت سازی کی مہم کی کامیابی میں عامر کیانی اور اُن کے ساتھیوں نے جو کردار ادا کیا وہ خصوصی طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں‘‘ اور اگر مجھے بھی نااہل قرار کر دیا گیا تو جوشیلے کارکنان اس فیصلے کے خلاف تحریک چلانے کے لیے تیار رہیں کیونکہ نااہلی کے بعد اگر میاں نوازشریف کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے تو اس طرح میری مقبولیت میں اضافہ ہو گا اور جلسوں میں کرسیاں خالی نہیں رہیں گی ۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں عامر نیازی اور دیگران سے گفتگو کر رہے تھے۔اور‘ اب آخر میں کچھ اشعار : بہتر تو ہوئی ہے کوئی رفتار کی صورت میں چلنے لگا ہوں کسی دیوار کی صورت (مسعود احمد) میں اگر دوسری طرف دیکھتا ہوں تب بھی تو تیری ہی طرف دیکھتا ہوں (نسیم سحر) بچھڑ کر تجھ سے رویا تو نہیں میں ذرا آواز بھاری ہو گئی ہے (اظہر عباس) آج کا مقطع سنپولیے کچھ اور بھی حقدار تھے‘ ظفرؔ میں اپنے آپ اُٹھ کے خزانے سے آ گیا