غلطی کا اعتراف

غلطیاں ہوئیں اور ان گنت۔ ایک غلطی نے اتنے انڈے بچے دیے کہ ہمارا آنگن اُن سے بھر گیا۔ ایک مدت کے بعد درست سمت میں پہلا قدم اٹھا جب وزیر خارجہ نے اس کا اعتراف کیا۔ غلطی کا اعتراف بہادری اور اصلاحِ احوال کی شرطِ اوّل ہے۔ میں اس بہادری پر خواجہ آصف صاحب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ قومی مفاد اور حب الوطنی کا یہ تصور متروک ہو چکا کہ لوگوں کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف خود شکستگی ہے۔ جس غلطی کے اثرات پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیں، لازم ہے کہ اس کا سرِعام اعتراف ہو۔ جو قومیں بند دروازوں کے پیچھے سچ بولتیں اور سرِ عام حق بات کہنے سے گھبراتی ہیں، وہ دوغلے پن کی بیماری میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ ایسی قوموں میں ہی ڈان لیکس جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ امریکی صحافی نے ابو غریب کی اذیت گاہوں کا انکشاف کیا تو یہ امریکہ میں قومی سلامتی کا مسئلہ نہیں بنا۔ امریکی لوگ جانتے ہیں کہ قومی سلامتی ریت کی دیوار نہیں ہوتی۔ اور یہ کہ قومی سلامتی کی حفاظت حقائق سے نظریں چار کرنے سے ہوتی ہے، چرانے سے نہیں۔ یوں بھی خواجہ آصف صاحب کی بات نئی ہے اور نہ منفرد۔ جب ہمارے سپہ سالار یہ کہتے ہیں کہ جہاد صرف ریاست کا کام ہے تو کیا باندازِ دیگر، یہ وہی بات نہیں جو خواجہ صاحب کہہ رہے ہیں؟ کاش یہ بات 1979ء کے سپہ سالار اور اس وقت کی مذہبی قیادت کی سمجھ میں بھی آتی جنہوں نے جہاد کو ایک نجی سرگرمی بنایا اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔ یہ لکھتے لکھتے میری انگلیاں گھس گئیں کہ جہاد ریاست کا کام ہے۔ جواب میں گالیوں اور الزامات کے سوا کچھ نہ ملا۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج اعلیٰ ترین سطح پر اس کا ادراک ہو چکا۔ آج ہمارے سپہ سالار جب جہاد کو ریاست کے وظائف میں شمار کرتے ہیں تو دراصل وہ یہ کہنے کی جرات کر رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہوئی جب ہم نے اسے نجی شعبے کے حوالے کر دیا۔ پاکستان کو آج خواجہ آصف اور جنرل قمر باجوہ جیسے بہادر لوگوں کی ضرورت ہے۔ حکمتِ عملی کے نتائج ناطق ہوتے ہیں۔ وہ بول اٹھتے ہیں کہ اختیار کردہ راستہ غلط ہے یا درست۔ ہم نے جو خارجہ پالیسی اڑتیس سال پہلے اپنائی اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ اس وقت ہمیں ایک خارجی دشمن کا سامنا تھا۔ آج ساری سرحد غیر محفوظ ہو چکی اور خود ریاست کے اندر بھی ‘خوارج‘ پیدا ہو چکے۔ سلامتی کا بحران سنگین تر ہو گیا۔ تین عشرے پہلے جن لوگوں نے یہ حکمتِ عملی ترتیب دی، ان کی نیت زیرِ بحث نہیں۔ بہت سے غلط کام نیک نیتی کے ساتھ بھی کیے جاتے ہیں۔ مجھے تو اسامہ بن لادن کی نیت میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ نتائج لیکن پکار پکار کر بتا رہے ہیں کہ اس حکمتِ عملی نے ہمیں برباد کر دیا۔ میں اب پُر امید ہوں کہ خارجہ پالیسی کے باب میں ہم صحیح راستے پر چل نکلے ہیں۔ ہم نے ایک مشکل مرحلہ عبور کر لیا۔ یہ غلطی کے اعتراف کا مرحلہ تھا۔ اب اگلا قدم اٹھانا آسان ہو گا۔ اب ہم امریکہ کے سامنے زیادہ اعتماد کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔ یہ اعتماد انشاء اللہ ہمیں وہ قوت فراہم کرے گا جو ایک باوقار اور قومی مفاد کے مطابق خارجہ پالیسی کی تشکیل میں مددگار ہو گی۔ خارجہ پالیسی ظاہر ہے کہ متنوع امور کا مجموعہ ہے۔ اس میں سلامتی کے تصور کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ تصور وجودی بقا (Physical existence) کے ساتھ ساتھ معاشی اور سماجی سلامتی کو محیط ہے۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے لے کر کرکٹ کے کھیل تک، سب باتیںکسی نہ کسی طرح خارجہ پالیسی ہی کا حصہ ہیں۔ ہمیں آج دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے دہشت گردی کے اثرات سے نکل چکا۔ اب یہاں آنے والوں کو جان و مال کا کوئی خوف نہیں۔ پاکستان کی یہی تصویر ہے جو معاشی سرگرمی کو مہمیز دے گی۔ یوں پاکستان کی معیشت کے لیے بہتری کے راستے کھلیں گے۔ ہمارے لیے یہ سوال بہت اہم ہے کہ دہشت گردی کے سب سے زیادہ نقصانات اٹھانے کے باوجود، کیا وجہ ہے کہ لوگوں کے دل میں ہمارے لیے ہمدردی کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوا؟ دنیا ہمیں اب تک فروغِ دہشت گردی کا مجرم ٹھہراتی ہے۔ کوئی ایک ملک دنیا میں ایسا نہیں جو اس معاملے میں ہم سے ہمدردی رکھتا ہو۔ چین بھی نہیں۔ تنہائی کا اس سے بڑا ثبوت کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ اس لیے بھی یہ ناگزیر ہو چکا کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کو نئے خطوط پر استوار کریں۔ عالمگیریت کے اس عہد میں چند عالمگیر تصورات نے جنم لیا ہے۔ یہ تصورات اقوام کے باہمی تعلقات کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان میں بنیادی انسانی حقوق سے لے کر دہشت گردی اور انتہا پسندی تک کئی امور شامل ہیں۔ کوئی ملک ان سے بے نیاز ہو کر اپنی خارجہ پالیسی نہیں تشکیل دے سکتا۔ بہت سی باتیں تو اقوامِ متحدہ کی سطح پر طے کر دی گئی ہیں‘ جنہیں خواہی نخواہی ہمیں تسلیم کرنا ہے۔ اس لیے کسی ملک پر یہ الزام کہ وہ کسی ایسے فرد یا گروہ کی سرپرستی کرتا ہے جسے دنیا دہشت گرد کہتی ہے، نتائج کے اعتبار سے بہت سنگین ہے۔ یہ مقدمہ اپنی جگہ درست ہے کہ امریکہ جیسی طاقت ور ریاستیں ان باتوں کو خاطر میں نہیں لاتیں۔ انسانی حقوق کی پامالی میں بھارت کا مجرم ہونا ایک کھلی حقیقت ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ فلسطینیوں اور کشمیریوں کے انسانی حقوق جس طرح پامال ہو رہے ہیں، ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود امریکہ سمیت کوئی ملک سخت قدم اٹھانے پر آمادہ نہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عالمی طاقتوں کے لیے قوانین اور ہیں‘ اور ہمارے لیے اور۔ یہ وہ تلخ سچائی ہے جس کا سامنا دنیا کو ہر عہد میں رہا ہے۔ تاریخ کا کوئی دور ایسا نہیں جس میں طاقت ور نے دنیا پر اپنی مرضی مسلط نہ کی ہو۔ یہ ظلم ہے مگر حقیقت ہے۔ معاملے کی یہ نوعیت ہمیں مزید اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ ہم عالمی طاقتوں کی ناراضی سے خود کو محفوظ رکھیں۔ انسان کا سامنا جب کسی درندے سے ہو تو اس سے مکالمہ نہیں کیا جاتا۔ اس سے بچنے کی تدبیر کی جاتی ہے۔ بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ پہلے ان شکایات کا ممکن حد تک تدارک کیا جائے جن کو بہانہ بنا کر کچھ قوتیں آپ پر چڑھ دوڑنا چاہتی ہیں۔ اس سے ہمیں اخلاقی قوت حاصل ہو گی اور ہم دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ زیادہ اعتماد کے ساتھ رکھ سکیں گے۔ چین اپنے تزویراتی اور معاشی مفادات کے باعث ہمارا ہم نوا ہے‘ لیکن اگر ہم نے اپنی غلطیوں کا ازالہ کر لیا تو اس کی تائید میں زیادہ گرم جوشی پیدا ہو جائے گی۔ پھر ہمیں روس جیسے ممالک کا تعاون بھی میسر آ جائے گا۔ خواجہ آصف صاحب نے جو اعتراف کیا ہے، کیا وہ فی الواقعہ ایک نئی پالیسی کی بنیاد بن سکتا ہے؟ مجھے اس سوال کے مثبت جواب میں تردد ہوتا مگر جب میں اسے جنرل قمر باجوہ کے بیان کے ساتھ رکھ کر پڑھتا ہوں تو امید پیدا ہوتی ہے۔ اگر خارجہ پالیسی کے مسئلے پر سیاسی اور عسکری قیادت میں اتفاق پیدا ہو جائے تو یہ نیک شگون ہو گا۔ ابھی یہ خواب تو نہیں دیکھا جا سکتا کہ سیاسی قیادت اس باب میں خود مختار ہو لیکن عسکری قیادت اگر خود اس نتیجہء فکر تک پہنچ چکی جس کا جنرل باجوہ نے اظہار کیا تو اسے غیبی مدد سمجھنا چاہیے۔ یہ اللہ ہی ہے جو لوگوں کے دل پھیر دیتا ہے۔ زندہ قوموں کی حکمتِ عملی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ یہی زندگی کی علامت ہے۔ تبدیلی کا یہ عمل غلطی کے اعتراف سے شروع ہوتا ہے۔ یہ فرد ہو یا قوم، اگر اعتراف کی یہ مشکل گھاٹی عبور کر لیں تو ان کے لیے بعد کی منزلیں آسان ہو جاتی ہیں۔