پاکستان کو جنگ بندی کی خلاف ورزی روکنے پر مجبور کیا جائے گا

نئی دہلی (روزنامہ یوکے ٹائمز) ہندوستان کی مودی حکومت پاکستان کے خلاف زہر اگلنے سے کسی صورت نا تو باز آتی ہے اور نہ ہی بے بنیاد الزام تراشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیتی ہے جبکہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو تو پاک سر زمین سے خدا واسطے کا بیر ہے ،اسی لئے وہ اپنی ہر تقریر میں پاکستان کے بارے میں اپنی ہر تقریر اور میڈیا سے ہونے والی گفتگو میں بلاجواز الزام تراشی ’’ثواب ‘‘ سمجھ کر کرتے ہیں ،اب ایک مرتبہ پھر مقبوضہ کشمیر کے چار روزہ دورے کے آخری دن راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان نے جنگ بندی کی 4سو مرتبہ خلاف ورزی کی ہے ، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کو روکنے کے لئے مجبور کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے 4روزہ دورے کے آخری روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے باوجود لوگ سرحد پر رہتے ہیں،بھارتی سرحد کو بچانے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ اور بھارتی فوج کی بڑی مدد تصور ہوتی ہے ، مودی حکومت کی جانب سے سرحد پر رہنے والے شہریوں کے لئے 60 بنکروں کی تعمیر کی گئی ہے جبکہ ساتھ میں دیگر کا بھی تعمیراتی کام چل رہا ہے۔انہوں نے بھارتی لائن آف کنٹرول پر رہنے والے لوگوں کو رشوت کا لالی پاپ دیتے ہوئے کہا کہ اگر لائن آف کنٹرول پر ہونے والی گولہ باری سے کوئی شخص 50فیصد یا اس سے زیادہ زخمی یا ہلاک ہو گیا تو مودی سرکار اسے 5لاکھ روپے کی مالی امداد دے گی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2014ء سے لیکر اب تک400مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے،ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کو روکنے کے لئے مجبور کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کہ قومی تحقیقاتی کمیشن (این آئی اے) ایک آزاد تحقیقاتی ایجنسی ہے اور کوئی حکومت اس کی تحقیقات کو متاثر کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ۔