کوئٹہ:‌ روایت شکن خاتون کراٹے ماسٹر گولڈ میڈل کے لیے پُرعزم

ویب ڈیسک(روزنامہ یوکے ٹائمز)محلے کے لڑکوں کو سبق سکھانے کے لیے کراٹے سیکھنے والی کوئٹہ کی لڑکی اب دنیا کو سبق سکھارہی ہے۔وہ کراٹے کھیلتی ہے! یہ ایک ایسا جملہ جسے ہمارے معاشرے میں سن کر بیشتر لوگ چونک جاتے ہیں۔ شاید آپ بھی چونک گئے ہوں۔ رکیے گا نہیں آگے بڑھیں، آپ آج چونکا دینے والی بہت سی باتیں پڑھنے جارہے ہیں کیونکہ یہ کہانی ہے کوئٹہ کی رہائشی شاہدہ عباسی کی جو ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے جس نے اس دور میں کراٹے سیکھے اور کامیابیاں سمیٹیں جب کوئٹہ میں حالات کسی طور سازگار نہیں تھے۔شاہدہ عباسی نے حالات کی سنگینی کو خاطر میں لائے بغیر بہادری، محنت اور لگن کے ساتھ اپنی تربیت میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی اور آج وہ پاکستان کی واحد بین الاقوامی کاتا کراٹے کی کھلاڑی ہیں اور ویمن قومی کراٹے ٹیم میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔شاہدہ گزشتہ برس بھارت میں منعقدہ ساؤتھ ایشین گیمز میں سلور اور براﺅنز میڈلز جیتنے کے علاوہ دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ علاقائی اور ملکی سطح پر منعقدہ مقابلوں میں گولڈ میڈل سمیت درجنوں میڈلز سمیٹنا اس کے علاوہ ہیں۔ اب قوم کی یہ بیٹی اگست میں ہونے والے چوتھے ساﺅتھ ایشین گیمز میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتنے کے لیے بھر پور ٹریننگ میں مصروف ہے۔بائیس سالہ شاہدہ عباسی نے سنہ 2006 میں کراٹے سیکھنے کا فیصلہ تب کیا جب وہ اپنے بھائی کو گھر کے قریب ہی کراٹے کلب میں داخلے کے لیے لے کر گئی۔ وہاں لڑکیوں کو کراٹے سیکھتے دیکھا تو اسے بھی شوق ہوا۔ شاہدہ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کہ کراٹے سیکھ کر محلے کے ان لڑکوں کو مارے جو لڑکیوں کو تنگ کرتے ہیں مگر جب اس نے اپنے استاد غلام علی ہزارہ سے باقاعدہ تربیت لینا شروع کی تو اسے اپنی صلاحیتوں کا اندازہ ہونے لگا اور وہ سمجھ گئی کہ کراٹے سے وہ لڑکوں سے انتقام کی بجائے اور بہت کچھ حاصل کرسکتی ہے۔اس نے بھر پور محنت شروع کردی، جلد ہی اس نے علاقائی مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کیں اور واپڈا کی کراٹے ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی۔شاہدہ کا کہنا ہے کہ اس نے بلوچستان کی طرف سے بہت سے مقابلوں میں حصہ لیا، پورے ملک کے مختلف شہروں میں منعقدہ مقابلوں میں گولڈ میڈل سمیت بہت سارے سلور اور براﺅنز میڈلز جیتے۔ اس سلسلے میں اسے بڑی کامیابی 2010 میں پشاور میں منعقد ہونے والے نیشنل گیمز میں ملی جس میں نوجوان کھلاڑی نے 2 سلور اور ایک براﺅنز میڈل جیتا۔ پھر 2012 میں لاہور میں منعقدہ نیشنل گیمز میں بھی سلور اور براﺅنز میڈل اپنے نام کیے۔ملکی اور بین الصوبائی مقابلوں نے شاہدہ کے اعتماد میں اضافہ کیا اور اس نے انٹرنیشنل کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے کمر کس لی مگر وہاں تک پہنچنا اتنا آسان نہیں تھا۔ سنہ 2010 کے بعد حالات مزید سنگین ہوگئے۔ آئے روز بم دھماکے ہونے لگے۔ سنہ 2013 میں ہزارہ ٹاﺅن میں شاہدہ عباسی کے کراٹے کلب اور گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر بارود اور کیمیکل سے بھرے ٹینکر کا دھماکا کیا گیا جس میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے۔اس قسم کے پے در پے واقعات نے ہزارہ کمیونٹی کو مخصوص علاقوں تک محدود کر کے رکھ دیا تھا مگراس نڈر لڑکی پر ان ہولناک واقعات کا خوف کبھی طاری نہ ہوا اور نہ اس کا عزم متزلزل ہوا۔ شاہدہ نے بہادری سے محنت جاری رکھی اور بالآخر اس کا بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کا خواب 2016 میں پورا ہوا جب اس نے دبئی پریمیئر لیگ میں کاتہ کراٹے کا خوبصورت مظاہرہ کیا۔ اس وقت تاہم وہ کوئی میڈل نہ جیت سکی۔ بعد ازاں 2016 میں قومی ویمن کراٹے ٹیم کے ساتھ تیسرے ساﺅتھ ایشین گیمز میں شرکت کر کے اس نے 3 براﺅنز میڈل حاصل کیے۔رواں سال کے آغاز میں شاہدہ چوتھے اسلامک سولیڈریٹی (Solidarity) گیمز میں حصہ لینے کے لیے قومی ٹیم کے ساتھ آذربائیجان گئی تاہم وہاں بھی کوئی میڈل حاصل نہ کرسکی۔ شاہدہ کے مطابق بین الاقوامی مقابلوں میں کامیابی اور ناکامیوں سے ہٹ کر جو فائدہ اسے ہوا وہ تجربے کا ہے۔ پاکستان اور بالخصوص کوئٹہ میں کراٹے کی کھلاڑیوں کے لیے سہولیات کا فقدان جس کے باعث اس کی پریکٹس اور تیاری دیگر ممالک کے کھلاڑیوں جیسی نہیں ہوتی تاہم اب تک اس نے جتنے مقابلوں میں حصہ لیا ہے اس کا ماننا ہے کہ اس سے اس کے کھیل میں مزید بہتری آئی ہے جس کا فائدہ اب اسے اگست میں سری لنکا میں منعقدہ چوتھے ساﺅتھ ایشین گیمز میں ہوگا۔شاہدہ کوئٹہ میں اپنے کلب ہزارہ شوتکان کراٹے اکیڈمی کو بھر پور وقت دیتی رہی ہے اور اب نیشنل ٹریننگ سیشن میں بھی ٹرینرز کی مدد سے بھر پور تیاری کررہی ہے۔ اسے امید ہے کہ اس بار وہ کاتہ کا شاندار مظاہرہ کر کے کراٹے میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیت کر آئے گی۔شاہدہ عباسی اپنی کامیابیوں کی ایک اور بڑی وجہ اپنے والدین کے رویے کو قرار دیتی ہے۔ وہ ایک متوسط طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ والد عیسیٰ خان پولیس کے ریٹائرڈ اہلکار ہیں جبکہ اس کی 4 بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ چھوٹے سے گھر میں شاہدہ کے جیتے ہوئے متعدد میڈلز ایک خزانے سے کم نہیں۔ کراٹے میں کامیابیاں اور فتوحات کی مدد سے شاہدہ اپنے ریٹائرڈ والد کی مالی معاونت بھی کرتی ہے جس سے اس کے والد کو کبھی احساس نہیں ہوتا کہ ان کا صرف ایک بیٹا ہے۔ شاہدہ کے بقول وہ گھر کو وقت بھی بہت کم دیتی ہے۔ بارورچی خانے کا تو رخ ہی نہیں کرتی، والدہ اور بہنوں نے بھی اسے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے تاکہ وہ اپنے کھیل پر مکمل طور پر توجہ دے سکے۔شاہدہ کے بقول شروع میں کلب کا نام سنتے ہی رشتہ دار اور جاننے والے کہتے تھے کہ یہ لڑکی اب کلب بھی جایا کرے گی۔ محلے والے بھی معیوب تصور کرتے تھے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ہماری کامیابیوں کا سن سن کر اب ان لوگوں کو شاید سمجھ آنے لگی اوران کا رویہ کافی حد تک تبدیل ہوگیا۔ شاہدہ سمجھتی ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اب ہزارہ لڑکیوں کا رحجان کراٹے کی جانب ماضی کی نسبت بہت بڑھ گیا ہے۔بے شمار صلاحیتوں کی حامل ہمت اور حوصلہ کی کہانی صرف شاہدہ نہیں بلکہ ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی اس جیسی دیگر لڑکیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ شاہدہ کے کلب کے استاد غلام علی ہزارہ کے مطابق ان کے کلب میں 100 کے قریب کھلاڑی بلیک بیلٹ ہوچکے ہیں جن میں 35 لڑکیاں شامل ہیں۔ بلوچستان کی ویمن کراٹے ٹیم ہزارہ برادری کی لڑکیوں سے بنتی ہے جب کہ اس وقت شاہدہ کے ساتھ دو اور لڑکیاں ناز گل اور نرگس بھی اسی کلب سے سیکھی ہوئی قومی ویمن کراٹے ٹیم کا حصہ ہیں۔

اس طرح پاکستان کی 12 رکنی ویمن کراٹے ٹیم میں سے 3 کا تعلق بلوچستان سے ہے اور تینوں کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ناز گل 55 کلو گرام کٹیگری اور نرگس اوپن فائٹ کراٹے کی کھلاڑی ہیں ان دونوں نے بھی مقامی، ملکی اور بین الاقوامی مقابلوں میں متعدد میڈلز حاصل کیے ہیں۔ قومی ویمن کراٹے ٹیم کے ان تینوں کھلاڑیوں کی آپس میں بہت اچھی دوست بھی ہے۔ اور تینوں پرعزم ہیں کہ وہ آنے والے ساﺅتھ ایشین گیمز میں نمایاں کارکردگی دکھا کر دنیا کو سبق سکھائیں گی کہ صنف نازک کہلائی جانے والی لڑکیاں اتنی بھی نازک اور کمزور نہیں