سونو نگم کی طرف سے مسلمان بس ڈرائیور کو 5 لاکھ روپے انعام

ممبئی(روزنامہ یوکے ٹائمز) فجر کی اذان سے متعلق توہین آمیز ٹوئٹس پر دنیا بھر سے رسوائی سمیٹنے والے گلوکار سونو نگم نے مقبوضہ کشمیر میں کئی ہندو یاتریوں کی جانیں بچانے والے ایک مسلمان بس ڈرائیور کو 5 لاکھ روپے انعام دیئے ہیں۔گلوکار سونونگم نے اپریل میں فجر کی اذان سے متعلق نامناسب ٹویٹس کرتے ہوئے اذان کو شور قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ بھارت میں یہ جبری مذہب پرستی آخر کب ختم ہوگی، سونو کے اس ٹویٹ نے بھارت میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا تھا، ان کے بیان پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان سے معافی کا مطالبہ کیا تھا جبکہ بھارت میں مقیم مسلمانوں نے ان کے خلاف مظاہرے بھی کیے تھے بعد ازاں سونو نے حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے معافی مانگنے کے ساتھ اپنا سر بھی منڈوایا تھا۔سونو نگم نے ایک مرتبہ پھر ایسا کام کیا ہے کہ بھارت کا عام مسلمان اور مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج کے ہاتھوں ظلم سہنے والے والوں کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جاسکیں۔ چند روز قبل جموں میں ہندو کے مقدس مقام امر ناتھ جانے والی ایک بس پر فائرنگ ہوئی تھی جس میں 6 ہندو یاتری ہلاک جب کہ کئی زخمی ہوگئے تھے۔ بھارتی حکومت اور میڈیا نے اس خبر پر آسمان سر پر اٹھالیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بس کا ڈراوائیر اپنی جان سے نا کھیلتا تو جانی نقصان زیادہ ہوتا۔ پہلے پہل تو بھارتی میڈیا نے ڈرائیور کا کردار بڑھا چڑھا کر پیش کیا لیکن جب یہ بات کھلی کہ ہندو یاتریوں کی جان بچانے والا ایک مسلمان ہے تو معاملے کو ہی دبا دیا لیکن سونو نگم نے شیخ سلیم غفور نامی مسلمان ڈرائیور کو 5 لاکھ روپے بطور انعام دیئے ہیں۔سونونگم کا کہنا ہے کہ شیخ سلیم غفور نے ہندو مسافروں کی جان بچائی ہے اور اس لیے بھارتی حکومت بھی اسے انعامات اور اعزازات سے نوازے تاکہ دوسرے لوگ بھی ایسے کاموں میں اپنا حصہ ڈالیں۔ دوسری جانب لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سونونگم کی مسلمانوں کا دل جیتنے کی ناکام کوشش ہے تاکہ وہ بھارت میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرلیں۔ویسے بحیثیت مسلمان ہمارے لیے ہر انسان کی جان انتہائی مقدم ہے لیکن سونو نگم اور ان جیسے دیگر بھارتی متعصن ہندو کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس طرح کی چھوٹی حرکتیں کرنے کے بجائے اپنی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دے کر خطے میں امن کی بنیاد بنیں۔