پاکستان ماحولیاتی ابتری کے پھندے میں

کتنے پاکستانی واقف ہیں کہ ان کی اس قومی پناہ گاہ کا شمار ان دس ممالک میں ہے جو عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔اب سے دس برس پہلے گیلپ پاکستان کے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ محض چوبیس فیصد پاکستانی ماحولیاتی تبدیلیوں کو ایک سنگین بقائی خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے اب تک یہ تعداد بڑھ کے تیس فیصد ہو گئی ہو۔ پاکستان اگرچہ عالمی درجہ حرارت میں کمی کے لیے دو ہزار تیس تک دورس عالمگیر اقدامات کا مطالبہ کرنے والے پیرس ماحولیاتی معاہدے دو ہزار پندرہ کا دستخط کنندہ ہے مگر حکومت کے پاس بظاہر کوئی مربوط ماحولیاتی پالیسی نہیں اور سنجیدگی کا اندازہ یوں ہو سکتا ہے کہ سال دو ہزار پندرہ سولہ کے بجٹ میں ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کی مد میں لگ بھگ چھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ( اتنے پیسوں میں تو دو کلومیٹر سڑک بھی پکی نہیں ہوتی)۔پاکستان کے پاس ماحولیاتی تبدیلیوں پر نگاہ رکھنے کے لیے کوئی جدید آلاتی اور مربوط نظام بھی نہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ جو بھی نگراں نظام ہے وہ قدیم و جدید امداد میں ملے آلات کا بھنڈار ہے۔کہنے کو ایک انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی ( ای پی اے ) بھی ہے لیکن یہ اتنی ہی با اختیار ہے جتنے صدرِ پاکستان۔ قدرت وارننگ پر وارننگ دے رہی ہے مگر کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں۔نہ میڈیا نہ سرکار۔میڈیا کو اس سے تو مطلب ہے کہ تھر میں خشک سالی نے پچھلے برس کتنی جانیں لیں اور اب کے برس اسکور کیا ہے۔مگر یہ کھوج لگانے سے کوئی دلچسپی نہیں کہ تھر اور بیشتر بلوچستان میں پچھلے کئی برس سے خشک سالی کا گھن چکر نہ ٹوٹنے کی کیا ماحولیاتی وجوہات ہیں اور ان سے کیسے نمٹا جائے۔ اب تو تھر میں کوئلے کی کھدائی بھی شروع ہو چکی ہے۔ زمین پر اس کے اثرات اور نقل مکانی سمیت ترقی کے نتائج جب پانچ برس بعد کھلنے شروع ہوں گے تو ہم حسبِ معمول یا تو ایک دوسرے پر ذمے داری ڈال رہے ہوں گے یا حالتِ پرسہ میں ہوں گے۔ کراچی پاکستان کا وہ شہر ہے جس پینتیس برس پہلے تک مون سون ٹوٹ کے آتا تھا۔پھر بارشیں روٹھتی چلی گئیں۔کراچی کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاںگرمی و سردی ایک حد سے آگے نہیں بڑھتی۔ مگر اسی کراچی میں گذشتہ برس جون میں گرمی سے ڈیڑھ ہزار سے زائد لوگ جاں بحق ہو گئے اور اس المیے کو کسی نے بھی ماحولیاتی خلل کا اشارہ سمجھنے کی زحمت نہیں کی۔ بس ایک تبدیلی آئی کہ اس برس صوبائی حکومت نے یہ اخباری اشتہارات شایع کرا دیے کہ خبردار گرمی میں باہر نہ نکلیں۔ کیا کوئی جانتا ہے کہ ضلع ٹھٹھہ کی تحصیل کھارو چھان کی پچاس لاکھ ایکڑ زمین سمندر لے گیا۔یعنی پچھلے تیس برس میں صوبہ سندھ کا بارہ فیصد رقبہ سمندر نے چھین لیا مگر مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں کے نعرے بھی بدستور ہیں۔سمندر کو درکار دریائی پانی کی مقدار میں مسلسل کمی کا انتقام سمندر خشک انڈس ڈیلٹا سے لے رہا ہے۔یہ تباہی زمین کو سمندر کی دستبرد سے بچانے والے مینگروو جنگلات کی کٹائی سے شروع ہوئی۔ انیس سو اکتالیس میں انڈس ڈیلٹا کی پہلی دفاعی لائن یعنی مینگرووز جنگلات چار لاکھ ہیکٹر پر پھیلے ہوئے تھے۔ آج محض ستر ہزار ہیکٹر پر لہلہا رہے ہیں۔ڈیلٹا کی تباہی کے نتیجے میں پچاس لاکھ میں سے اسی فیصد ماہی گیر، چرواہے، کسان بال بچوں سمیت قصبوں اور شہروں کی طرف خاموش نقلِ مکانی کر گئے۔مگر یہ کوئی بریکنگ نیوز نہیں۔ انیس سو پینتالیس میں کراچی میں آخری سمندری طوفان آیا اور چار ہزار انسان نگل گیا ( تب کراچی کی آبادی ڈھائی سے تین لاکھ تھی۔اگر ڈھائی لاکھ میں سے چار ہزار انسان کم ہو جاتے ہیں تو اس شرح سے موجودہ ڈھائی کروڑ شہری آبادی میں ہلاکتوں کی تعداد کیا بنے گی ؟ )۔شکر ہے اس کے بعد کوئی طوفان نہیں آیا مگر پچھلے بیس برس کے دوران بحیرہ عرب میں طوفانوں کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے اور ہر طوفان کراچی کے قریب سے ایسے گذر جاتا ہے جیسے کنپٹی کے پاس سے گولی۔اب تک تو ان طوفانوں کا بوجھ مکران ، ٹھٹہ ، بدین اور بھارتی ریاست گجرات کا ساحل برداشت کرتا آ رہا ہے مگر طوفان کا کیا بھروسہ کب مزاج بدل جائے۔ ہرسال سمندروں کی سطح درجہِ حرارت میں اضافے اور برف کے پگھلاؤ کے سبب جس طرح بلند ہو رہی ہے اگر اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو دو ہزار ساٹھ اور ستر کے درمیان موجودہ کراچی غائب ہو سکتا ہے ( یہی خدشات نیویارک ، میامی ، شنگھائی جیسے شہروں کو بھی لاحق ہیں مگر وہاں پیشگی بندوبست کا معیار پاکستان سے کہیں بہتر ہے )۔ ایک سرکردہ ماہرِ ارضیات توصیف اسلم کا خیال ہے کہ کراچی جیسے شہروں کو نہ صرف سمندر بلکہ زمین کی جانب سے بھی خطرہ ہے۔وہ ایسے کہ مکران سے کراچی تک کا ساحل ایک ایسے ارضیاتی شگاف کے اوپر ہے جہاں عربین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹیں ملتی ہیں۔کسی بھی اندرونی زمینی نقل و حرکت کے سبب اگر یہ پلیٹیں ٹکراتی ہیں تو اس سے ایسا سونامی پیدا ہو سکتا ہے جس کی شدت سے ساٹھ سے نوے فٹ تک اونچی لہریں اٹھیں اور انھیں پیالہ نما ساحل پر آباد کراچی تک پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگے۔آگے کیا ہوگا خدا بہتر جانتا ہے۔( مگر یہ ایک سائنسی مفروضہ ہے )۔ اگلے دس برس میں کراچی کے قریب کینپ کے ایٹمی بجلی گھر کے علاوہ دو مزید ایٹمی بجلی پلانٹ نصب ہونے والے ہیں۔ہمیں اطمینان دلایا گیا ہے کہ یہ پلانٹ کسی بھی ناگہانی قدرتی و غیر قدرتی افتاد کے مقابلے میں فول پروف ثابت ہوگا۔یہ وہ دعویٰ ہے جو دو ہزار گیارہ کے سونامی میں فوکوشیما نیوکلئرپاور پلانٹ کے حشر کے بعد جاپانیوں نے بھی کرنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ ان پر یہ آشکار ہوگیا کہ اس دنیا میں صرف ایک شے ہی فول پروف ہے اور وہ ہے خود فول۔ ہر طرف لوگ مخمصے میں ہیں بیوقوف آج بھی مزے میں ہیں بس یہ یاد رہے کہ کراچی کی آبادی لگ بھگ ڈھائی کروڑ ہے۔سب سے مہنگی زمین یہاں کی ہے۔قومی پیداوار کا بیالیس فیصد کراچی سے حاصل ہوتا ہے اور سب سے زیادہ ٹیکس بھی یہیں سے وصول پاتا ہے۔حالانکہ یہ شہر سمندر کے کنارے ہے۔مگر ڈی سیلینیشن ٹیکنالوجی کے بجائے یہ شہر آج بھی دریائی پانی پر انحصار کرتا ہے۔چنانچہ یہاں پانی ابھی سے نایاب ہونا شروع ہوگیا ہے۔شہر کی ضرورت چار ارب لیٹر روزانہ ہے مگر دستیاب محض دو ارب لیٹر ہے۔ ( مکران جو پاکستان کے غریب ترین ساحلی علاقوں میں شمار ہوتا ہے وہاں اس وقت پینے کا پانی ساٹھ روپے میں آٹھ لیٹر کے حساب سے دستیاب ہے۔جب کہ سرکاری پانی پاک بحریہ کا جہاز کراچی سے بھر کے اہلِ مکران کے لیے لے جاتا ہے۔مگر یہ سروس بھی ریگولر نہیں )۔ سمندر کے ساتھ مزید بلات کار خود اہلِ کراچی کر رہے ہیں۔نہ صرف بیشتر صنعتی فضلہ سمندر میں انڈیلا جا رہا ہے اور انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اپنے پوپلے منہ کو قانونی و ضوابط کی چنریا سے چھپائے چھپائے پھر رہی ہے بلکہ ساحلی ترقی اور ری کلیمیشن کے نام پر سمندری زمین بھی چھینی جا رہی ہے۔یعنی سمندر کو اور پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔کاش ان غاصبوں کو معلوم ہو کہ سمندر فطرتاً قبائلی ہے۔وہ کبھی اپنی توہین اور زمین کا بدلہ لینا نہیں بھولتا اور پلٹ کے ضرور آتا ہے۔ یہ تو ہوئی سمندر سے انسانی سلوک کی داستاں۔اگلے مضمون میں ہم بات کریں گے کہ پہاڑ اور دریا انسان سے کس قدر جھلائے ہوئے ہیں اور اب تنگ آمد بجنگ آمد پر آمادہ ہیں۔