بڑھتی مشکلات

آنے والا کل ملکی سیاست میں کیا تبدیلی لائے گا ، اس کے بارے میں یقینی طور پر کچھ کہنا ذرا مشکل ہے لیکن واقعات جن حالات کی جانب کھل کر اشارے کر رہے ہیں ان کے مطابق شریف خاندان پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے جس کو وہ محسوس بھی کر رہے ہیں اور وزیر اعظم پاکستان نے دس جولائی سے اپنی تمام مصروفیات بھی منسوخ کر رکھی ہیں، اقتدار کے سب سے بڑے گھر میں صبح سے شام تک اجلاس اور مختلف مسائل کے بارے میں مسلسل مشاورت ہو رہی ہے کہ بے رحم حالات کی سولی پر ٹنگے اقتدار کو کیسے بچایا جائے ۔
پانامہ کیس کے نتیجہ میں بننے والی تحقیقاتی ٹیم نے جو رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی ہے، اس کا سپریم کورٹ میں دفاع کیسے کیا جائے۔ مشورہ دان زیادہ ہیں جب کہ ہمدردان کی تعداد ذرا کم ہے، ہمدردان کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف کے استعفیٰ سے نواز لیگ کا اقتدار بچایا جا سکتا ہے تو فوری طور پر ایسا کر لینا چاہیے اور اپنی پارٹی میں سے ہی کسی ممبر کو وزیر اعظم بنا کر اقتدار کے باقی رہ جانے والے کچھ مہینے گزارے جا سکتے ہیں جو کہ ہمدردان کی جانب سے ایک دانشمندانہ مشورہ سمجھا جا رہا ہے، اس طرح کہ اس دوران سینیٹ کا الیکشن بھی آجائے گا جس میں نواز لیگ اپنی صوبائی سیٹوں کی وجہ سے برتری میں آجائے گی اور اگر آیندہ الیکشن میں عوامی رائے اس کے حق میں نہیں بھی ہوتی تو سینیٹ میں بیٹھ کر آنے والی محدود حکومت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے جیسا کہ آج کل پیپلز پارٹی کر رہی ہے اور اس نے سیاسی ایوانوں میں اپنے آپ کو زندہ رکھا ہوا ہے اور ہر اہم موقع پر دوتہائی اکثریت کی حامل نواز حکومت کو اس کی جانب مڑ مڑ کر دیکھنا پڑتا ہے کہ ان کی جانب سے کی گئی قانون سازی کو سینیٹ بھی نامنظورنہ کر دے ۔
یہ ایک حقیقت پسندانہ فیصلہ ہو گا کہ اقتدار کی باقی ماندہ مدت کو سیاسی بصیرت استعمال کرتے ہوئے مکمل کیا جائے ۔ مشورہ دان ساتھی یہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی ذات کی قربانی بہت بڑی ہے اور ان کو کسی صو رت میں بھی استعفیٰ نہیں دینا چاہیے اور اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ ان مشورہ دانوں کے مشورہ پر ہی نواز شریف نے واضح الفاظ میں یہ کہہ بھی دیا ہے کہ وہ سازشی ٹولہ کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دیں گے ان کے اس فیصلے کی ان کی کابینہ نے بھی توثیق کر دی ہے۔ نواز شریف مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے اور ان کو اقتدار کی گلیوں سے مستقل طور پر نکالنے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے ۔
جب وہ یہ سمجھ بھی رہے ہیں اور سب کچھ ہو بھی رہا ہے تو وہ کیوں خاموش ہیں ان کو اس سازش کے پیچھے چھپے لوگوں کو بے نقاب کرنا چاہیے کیونکہ ابھی وقت ان کی دسترس میں ہے اور ان کے کہے کو اہمیت دی جائے گی اور لوگ ان کی بات کو سنیں گے بھی اور سمجھیں گے بھی لیکن اقتدار سے دوری کے بعد کسی بھی سازش کو وہ ازخود بے نقاب کرتے رہیں، اس کو دیوانے کی بڑ اور کھسیانی بلی کھمبانوچے ہی کہا جائے گا تو یہ ایک غلط سیاست ہو گی۔ میاں نواز شریف نے اپنے ارد گرد جس طرح کے لوگ اکٹھے کر رکھے ہیں وہ ان کوصحیح مشورہ دے ہی نہیں سکتے کہ ان کی حیثیت درباریوں سے زیادہ نہیں ہے لیکن جو ان کو ہمدردانہ مشورہ دے رہے ہیں نواز شریف اس کو ماننے کو تیار نہیں اور اس ماننے نہ ماننے کے چکر میں وہ اپنا نقصان کر بیٹھیں گے۔
اپوزیشن کی جانب سے باآواز بلند وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ بار بار کیا جارہا ہے اور اپوزیشن پارٹیاں سیاسی دباؤ میںاضافے کے لیے آپس میں مشاورت بھی کر رہی ہیںکہ وزیر اعظم کو استعفیٰ پر مجبور کر دیا جائے اور نواز لیگ کی ملک میں سیاسی برتری کو کمزور کیا جا سکے۔ اپوزیشن اپنا رول کامیابی اور بھر پور طریقے سے ادا کر رہی ہے جب کہ دوسری طرف حکومتی ایوانوں میں بھی مسلسل صلاح مشورے جاری ہیں کہ اس دباؤ میں کمی لا کر حالات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جا سکے ۔ اصل خرابی تب ہی شروع ہو گئی تھی جب حکمران خاندان کو پانامہ کیس کے بارے میں ذرایع ابلاغ میں آنے سے پہلے ہی پتا چل گیا اور انھوں نے اپنے درباریوں کے مشورے پر حفظ ماتقدم کے طور پر حسین نواز نے پاکستانی میڈیا میں انٹرویو دینے شروع کر دیے جن کا خمیازہ اب بھگتا جا رہا ہے ۔
میاں نواز شریف پچھلی کئی دہائیوں سے سیاست کے کارزار میں ہیں ، اس دوران وہ دو دفعہ اقتدار سے دوری کے علاوہ جلا وطنی کا مشکل دور بھی گزار کر چکے ہیں اور قسمت کے دھنی نواز شریف ایک دفعہ پھر سے اقتدار میں ہیں اور اس دفعہ وہ اپنی اقتدار کی مدت پوری کرنے کے اتنے قریب پہنچ چکے ہیں کہ کہا جا سکتاہے کہ اب ؎دوچار ہاتھ جب کہ لب ِبام رہ گیا کی حالت میں ہیںلیکن پانامہ نے اس رنگ میں بھنگ ڈال دی اور اب ’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتاً ‘‘ والی صورتحال پیداہو گئی ہے ۔
نواز شریف کا اب باعزت طور پر اقتدار میں رہنا ان کی اپنی صوابدید پر ہے جب کہ وہ خود تو استعفیٰ دینے کو سازش قرار دے رہے ہیں لیکن اگر عدالتی فیصلے کے نتیجہ میں وہ اقتدار سے باہر ہو جاتے ہیں ،اس کے بعد اگر وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کو سیاسی طور پر اس فیصلے کے فوائد ہوں تو یہ ان کی بہت بڑی بھول ہو گی چونکہ ان کے خلاف تحقیقات میں پہلے ہی بہت سارے الزامات لگائے جا چکے ہیں جن کی بنیاد پر عدالت نے فیصلہ دینا ہے اور فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں نواز شریف عوامی ہمدردری کا آپشن بھی کھو دیں گے کیونکہ اس کے لیے اب بہت دیر ہو چکی ہے ۔
استعفیٰ کا فیصلہ اگر جے آئی ٹی کی تحقیقات سے پہلے کر لیا جاتا تو ان کو عوامی پذیرائی بھی ملتی اور وہ سرخرو بھی رہتے لیکن جب خود انھوں نے قومی اسمبلی اور قوم سے خطاب میں اپنے خلاف تحقیقات میں ثبوت آنے کے بعد استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا اب وہ ان تحقیقات کو کس حد تک جھٹلا سکتے ہیں یا ان کو غلط ثابت کر سکتے ہیں اس کے بارے میں پتہ توآنے والے دنوں میں اس کیس کی سپریم کورٹ کی سماعت میں چل ہی جائے گا لیکن ملک کے وزیر اعظم کو عوام سے مخاطب ہوتے وقت اپنے منصب کے مطابق یہ خیال بھی رکھنا چاہیے کہ ان کی زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جو آنے والے وقت میں ان کے سامنے آجائے اور ان کے لیے مشکلات پیدا کرے۔
وزیر اعظم اپنے استعفیٰ کے بارے میں شاید انھی خدشات کا شکار ہیں جن کا اظہار ہر جگہ کیا جارہا ہے کہ ان کی منصب سے علیحدگی کی صورت میں پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہو جائے گی لیکن ابھی صورتحال اتنی بھی خراب نہیں ہوئی اور اگر عدالت سے فیصلہ آنے کے بعد وزیر اعظم کو ہٹا دیا جاتا ہے تو پھر نواز لیگ کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا اور وزیر اعظم کے خدشات درست ثابت ہوں گے لیکن اگر ابھی وہ اپنے برادرخورد شہباز شریف کو وزیر اعظم کے منصب پر بٹھا دیتے ہیں تو شہباز شریف میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ انتظامی امور کے ساتھ سیاسی امور کو بھی کامیابی سے چلا سکتے ہیں جس کا پس پردہ مظاہرہ وہ کئی دفعہ کر چکے ہیں اور حکومت اور اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان انھوں کئی مواقع پر غلط فہمیاں کو اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر دور کیا ہے اس کے بارے میں جلد فیصلہ ہی نواز لیگ کی سیاسی بقاء کا فیصلہ کرے گا۔میاں صاحب سیاست کے مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور سیاست میں ایسے وقت بھی آتے رہتے ہیں ، ضرورت سیاسی ذہانت کی ہے۔