ویلنٹائن ڈے ”محبت ” کا دن

میں نے اپنے دوست کے میڈیکل سٹور میں رکھے ہوۓ براۓ فروخت پھولوں کو دیکھا .تو کچھ زیادہ حیرت نہ ہوئی .بڑھتے ہوۓ معاشی مسائل کے سبب جوتوں کی دکان میں نہانے کا صابن اور گاڑیوں کا انجن آئل فروخت کرنے والوں کے پاس گاجر کا حلوہ بکتا ہوا عام دیکھا جاسکتا ہے .ہاں جی تو پھول بیچنا بھی شروع کردیئے .میں نے اکبر سے ہاتھ ملاتے ہوئے مسکراکرکہا . اکبر بھی جوابا’ مسکرایا .کیا کریں یار سیزن ہے ویلنتائیں ڈ ے کا .بچت کو بھی دیکھنا پڑتا ہے تم تو جانتے ہو اخرجات کتنے بڑھ گیے ہیں آج کل . لیکن یار .ویلنتائیں ڈ ے کو اپنی ذرا سی بچت کیلیے ترویج دینا مناسب بات نہیں . اکبر نے ناگواری سے میری بات کو سنا .ایک تو ہر بات کو اپنے ہی نظرے سے مت دیکھا کرو .محبت کرنے والے اس دن اپنی محبت کے اظہار کے طور پر پھول ایک دوسرے کو پیش کرتے ہیں تو اس میں خرابی کیا ہے ؟ محبت صرف وہی نہیں ہوتی یار جو غلط ہو .اور نہ ہی ضروری ہے کہ یہ دن غلط محبت کو بڑھاوا دے رہا ہو . اس سے پہلے کہ میں جواب دیتا عجب مضحکہ خیز حلیہ ایک کان میں بالی ہاتھ میں موتیوں کا چمکتا کڑا ایک نوجوان کسٹمر مٹکتے ہوۓ دکان میں داخل ہوا اس نے پھول خریدے اور اپنی کار کی طرف بڑھ گیا . میں نے اسکے تعاقب میں دیکھا کالے شیشوں کے پیچھے سے

دو کچھ گھبرائی ہوئی سے آنکھیں اسکا انتظار کر رہی تھی . اکبر نے اپنی بات کو آگے بڑھایا . یار پھول صرف گرل فرینڈز ہی کو دینے کیلیے نہیں ہوتے اور نا ہی یہ دن صرف اسطرح کی ”محبتوں” کے اظہار کا نام ہے.اب یہ نوجوان ہوسکتا ہے جسکلیے پھول لے کر گیا ہے وہ اسکی ماں بہن ہو یا کوئی اور عزیز رشتہ بس ایک اچھے دن کو اپنی خراب سوچ سے خود ہی خراب کر رکھا ہے تم نے .ایک بار پھر میں جواب نہیں دے پایا .وہ نوجوان دوبارہ دکان میں داخل ہوا . کچھ نروس انداز سے ہماری طرف دیکھا اور اکبر کی طرف ذرا سا جھکتے ہوۓ اسکے کان میں بڑبڑایا .اکبر نے اثبات میں سر ہلایا .اور ایک ڈبا ”ساتھی ” کا اسکی طرف بڑھادیا . اسکے جاتے ہی میں نے اکبر کے بدلے ہوۓ شرمندہ متغیر رنگ کو دیکھا .ایک زور دار قہقہہ لگایا.ہاں یار اسکا انداز بتارہا تھا .پھولوں کے ساتھ ‘ ” ساتھی ” بھی یقینا’ وہ کسی عزیز رشتہ کیلیے لیکر گیا ہے ہاں اب میری ذہنیت ہی خراب ہے تو اسمیں کسی کا کیا قصور۔۔۔