سعودی عرب میں خواتین کے لیے دستیاب نوکریوں کی تعداد میں 130 فیصد اضافہ

ریاض(روزنامہ یوکے ٹائمز) سعودی عرب میں حیرت انگیز طور پر خواتین کے لیے دستیاب نوکریوں کی تعداد میں 130 فیصد اضافہ ہوگیا، خود سعودی حکومت خواتین کے لیے نوکریاں بڑھانے کے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔سعودی عرب کی وزارت محنت (لیبر) اور سوشل ڈیولپمنٹ کی جانب سے حال ہی میں ماہ مارچ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 4 برس کے دوران خواتین کے پرائیویٹ سیکٹر ملازمت کرنے کی شرح میں 130 فیصد اضافہ ہوا ہے۔سال 2012ء میں 2 لاکھ 15 ہزار خواتین پرائیویٹ سیکٹر میں کام کررہی تھیں، 2016ء میں یہ تعداد 4 لاکھ 96 ہزار ہوگئی یعنی اس تعداد میں ہر ماہ 8 ہزار 500 خواتین کا اضافہ ہوا۔ ریاض میں 2 لاکھ 3 ہزار سے زائد خواتین کو ملازمتوں کی پیشکش ہوئی جو کہ سعودی تاریخ میں خواتین کے لیے ملازمتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے اور مجموعی ملازمتوں کا 41 فیصد ہے۔خیال رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کا نوکری کرنا، گاڑی چلانا اور محرم کے بغیر باہر نکلنا معیوب سمجھا جاتا ہے تاہم اب ان قوانین میں آہستہ آہستہ نرمی آرہی ہے۔سعودی عرب کی وزارت محنت اس بات پر کام کررہی ہے کہ خواتین ملازمین کی تعداد میں سال 2020ء تک اضافہ کرکے مجموعی ملازمتوں میں خواتین کا حصہ 28 فیصد تک کردیا جائے۔نیشنل ٹرانسفارمیشن پروگرام 2020ء کے تحت سعودی حکومت مزید منصوبے پیش کررہی ہے ان میں خواتین کا گھروں میں کام کرنا بھی شامل ہے اور امید ہے اس منصوبے کے تحت 1لاکھ 41 ہزار نوکریاں پیدا ہوں گی۔ان مںصوبوں میں حکومت کی زیادہ توجہ بالخصوص خواتین اور گریجویٹس افراد پر ہے، خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور انہیں محفوظ ماحول میں ملازمت کے لیے حکومت نے کئی پروگرام شروع کیے ہیں۔خواتین کو یہ اجازت قدامت پسندوں کی مخالفت کے باوجود خواتین کو دی گئی جن کا موقف ہے کہ خواتین کو کھلے عام کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے بالخصوص ایسی جگہ جہاں مخلوط ماحول ہے جیسا کہ شاپنگ سینٹرز، سپر مارکیٹ اور دیگر بازار۔